ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / لیجسلیچر اجلاس میں اراکین کی غیر حاضری روکنے کیلئے اصلاحات: کولیواڈ

لیجسلیچر اجلاس میں اراکین کی غیر حاضری روکنے کیلئے اصلاحات: کولیواڈ

Wed, 15 Mar 2017 03:33:43    S.O. News Service

بنگلور:14/مارچ(ایس او نیوز) ریاستی اسمبلی اسپیکر کے بی کولیواڈ نے کہاکہ ریاستی اسمبلی کی کارروائیوں میں وزراء اور اراکین اسمبلی کی مسلسل غیر حاضری کو روکنے کیلئے چند نئی اصلاحات لاگو کرنے وہ تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل سے شروع ہونے والے لیجسلیچر اجلاس میں ایوان میں حاضر رہنے والے اراکین کی تعداد روزانہ میڈیا کو جاری کی جائے گی، تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کے ان کے منتخب نمائندے اسمبلی کی سرگرمیوں میں کس دلچسپی سے حصہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزراء اور اراکین اسمبلی ایوان میں کتنے بجے داخل ہوئے اور کن کن کارروائیوں میں حصہ لیا وہ تمام تفصیلات روزانہ لیجسلیچر بلیٹن کے ذریعہ میڈیا کو مہیا کرائی جائیں گی۔اس کے ذریعہ وزراء اور اراکین اسمبلی میں یہ خوف بھی پیدا کیا جاسکتاہے کہ انہیں اسمبلی کی کارروائیوں میں ہمہ وقت حاضر رہنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اراکین اسمبلی اور وزراء کی غیر حاضری کے سبب بارہا لیجسلیچر کی کارروائیوں کو کچھ وقت کیلئے ٹال دینا پڑا ہے۔ یہ سلسلہ اب آگے نہ بڑھے اسی مقصد کے تحت نیا نظام رائج کیا جارہاہے۔انہوں نے کہاکہ ایوان میں دن بھر اراکین اسمبلی کی حاضری یقینی بنانے کیلئے دن میں دو مرتبہ صبح اور دوپہر دو بجے حاضری رجسٹر میں دستخط لازمی قرار دیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی کی حاضری کو بائیو میٹرک طریقہ سے درج کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے اراکین اسمبلی اور وزراء کو تاکید کریں کہ وہ بر وقت ایوان میں حاضر رہیں۔ کولیواڈ نے کہاکہ لیجسلیچر اجلاس کو بامقصد اسی وقت بنایا جاسکتاہے جب اراکین اسمبلی دلچسپی کے ساتھ اس میں حصہ لیں۔ خاص طور پر ایوان کی سرگرمیوں کے علاوہ مختلف کمیٹیوں کی میٹنگوں میں بھی اراکین اسمبلی کو پوری پابندی کے ساتھ حاضر رہنا چاہئے۔ مسٹر کولیواڈ نے بتایا کہ ریاستی لیجسلیچر کا بقیہ بجٹ اجلاس کل وزیراعلیٰ سدرامیا کی طرف سے بجٹ پیش کرنے کے ساتھ شروع ہوجائے گا۔یہ اجلاس 28مارچ تک جاری رہے گا۔9 دن تک چلنے والے اجلاس میں وقفہئ سوالات، بجٹ پر بحث سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہئ خیال ہوگا۔9/ روزہ اجلاس کیلئے 2215 سوالات منظور کئے گئے ہیں، جن میں سے 90جوابات ایوان میں دئے جائیں گے اور 1129سوالوں کے جواب تحریری طور پر دئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ لیجسلیچر اجلاس میں پیش کئے گئے کرناٹکا اراضی اصلاحات ترمیمی بل، کرناٹکا سیول سرویسس بل، کرناٹکا اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل، وغیرہ اس بار اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کئے جائیں گے۔اس موقع پر ریاستی حکومت کے چیف وہپ اشوک پٹن اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔


Share: